عمران خان نے ڈیم کی تعمیر کیلئے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے چندے کی اپیل کی ہے اور حسب روایت پٹواری دانشوڑان نے اس پر تنقید کرتے ہوئے کہنا شروع کردیا ہے کہ ڈیم بنانے اور نالی بنانے میں فرق ہوتا ہے، بھلا چندے سے بھی کبھی ڈیم بنایا جاسکتا ہے؟
بدقسمتی کی بات یہ پے کہ احسن اقبال سے لے کر تمام تر پٹواری دانشوڑان کی یہ بات درست ہے کہ چندوں سے ڈیم آج تک دنیا کا کوئی ملک نہیں بنا سکا، اور پاکستان جیسا ملک کہ جس پر نوازشریف اور زرداری کی مہربانیوں سے 92 ارب ڈالرز کا غیرملکی قرضہ ہو، وہ 1400 ارب روپے کا ڈیم چندے پر کیسے بنا پائے گا؟
چیف جسٹس کے قائم کردہ فنڈ میں پچھلے 3 ماہ میں 2 ارب روپے اکٹھا ہوسکے، اس حساب سے ایک سال میں 8 ارب، پانچ سال میں 40 ارب، 50 سال میں 400 ارب اکٹھا ہوں گے، یعنی 1400 ارب کیلئے پونے دو سو سال کا عرصہ درکار ہونا چاہیئے ۔ ۔ ۔ ریاضی کی اس آسان سی مساوات کی حد تک ارسو احسن اقبال سمیت تمام پٹواری ٹھیک ہیں۔
ان جاہل ارسطوؤں کے خیال میں 1400 ارب روپیہ جب تک اکٹھا نہیں ہوگا، ڈیم شروع نہیں ہوسکتا ۔ ۔ ڈیم نہ ہوا، غریب کی بیٹی کا جہیز ہوگیا کہ جب تک سارا جمع نہیں ہوگا، رخصتی نہیں ہوگی۔
پہلی بات تو یہ ذہن میں رکھیں کہ ڈیم بنانے میں کم از کم دس سے پندرہ سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے، جدید ٹیکنالوجی کی بدولت اس میں دو، تین سال کم ہوسکتے ہیں، اس سے زیادہ نہیں۔ ڈیم کی کنسٹرکشن میں ابتدائی فیزیبیلٹی کے بعد انجینرئنگ کا مرحلہ شروع ہوتا ہے، پھر اس کے بعد لینڈ ایکوائر کی جاتی ہے، متاثرہ لوگوں کو دوسرے علاقوں میں متبادل جگہ الاٹ کی جاتی ہے، پھر جب ڈیزائن ورک مکمل ہوجاتا ہے تو کنسٹرکشن کا مرحلہ شروع ہوتا ہے جو پانچ سے 8 سال تک محیط ہوتا ہے، کنسٹرکشن جب ایک خاص حد تک پہنچ جاتی ہے تو اس میں بجلی پیدا کرنے کی ٹیکنالوجی کی تنصیب شروع ہوتی ہے، جس میں تین سے پانچ سال لگ سکتے ہیں ۔ ۔ ۔
ڈیم کنسٹرکشن میں انجینئرنک ورک کی لاگت مجموعی تخمینے کے مقابلے میں اعشاریہ پچاس یعنی آدھا فیصد سے بھی کم ہوتی ہے، جس میں کیش فلو کی اتنی ضرورت نہیں پڑتی۔ متاثرین کو متبادل جگہ مہیا کرنے کیلئے خاصے وسائل درکار ہوتے ہیں لیکن چونکہ حکومتی زمین ہی استعمال ہوتی ہے، اس لئے الاٹمنٹ وغیرہ محض کاغذی کاروائی ہی ہوتی ہے، کیش فلو کم ہی درکار ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ سب سے بڑی لاگت کنسٹرکشن اور ہائیڈل پاور جنریشن کی ٹیکنالوجی کی ہوتی ہے اور وہ بھی یکمشت نہیں بلکہ مختلف مراحل میں خرچ ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ آسان الفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ پہلے سال شاید چند کروڑ روپے ہی درکار ہوں، اگلے سال چند ارب روپے تاکہ متاثرین کو دوسرے علاقوں میں آباد کیا جاسکے، اس سے اگلے سال کھدائی شروع ہوتی ہے جو کہ خالص لیبر ورک ہے جس میں اتنا زیادہ کیش فلو نہیں درکار ہوتا ۔ ۔ ۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ 1400 ارب روپے میں سے تقریبا ایک ہزار ارب روپیہ چوتھے سال سے لے کر آخری سال تک درکار ہوگا، جو کہ سالانہ تقریباً پونے دو سو ارب روپے بنتا ہے۔
اب آجائیں حکومتی وسائل کی طرف۔
عمران خان کی پالیسیوں کی بدولت سادگی، کفائت شعاری اور خسارے میں چلنے والے اداروں کی کارکردگی بہتر بناتے ہوئے سالانہ کم و بیش ڈھائی سو ارب سے زائد کی بچت متوقع ہے، یوں اگلے پانچ سال میں عمران خان صرف روایتی سرکاری عیاشیوں کی ختم کرکے ایک ہزار ارب روپے اللہ کی مہربانی سے بچا سکتا ہے۔
سوال یہ بنتا ہے کہ اگر ایسا ممکن ہے تو پھر چندے کی اپیل کیوں؟ چندے کی اپیل اس لئے کہ عمران خان نے اگلے پانچ سال میں صرف ایک ڈیم ہی تو نہیں بنانا، اس کے سامنے اداروں کی تعمیر کا پہاڑ جیسا ٹارگٹ کھڑا ہے، سوا دو کروڑ بچوں کو سکولوں میں بھیجنا ہے، صحت کی سہولیات گھر گھر پہنچانی ہیں، پولیس سے لے کر پٹوار تک، سب محکموں کو ٹھیک کرنا ہے، اس کیلئے وسائل درکار ہوں گے اور وسائل کیلئے یا تو ٹیکس اکٹھا کیا جائے، یا قرضہ حاصل کیا جائے۔ قرضہ لے کر ڈیم بنانا گھاٹے کا سودا ہوگا، اس لئے عمران خان نے چندے کی اپیل کی تاکہ قرض سے بچا جاسکے۔
ایک بات ذہن نشین کرلیں کہ دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ چندے کے ذریعے دنیا کا سب سے بڑا ڈیم اگر بنا تو پاکستان میں بنے گا اور اگر کوئی بنا سکا تو وہ عمران خان ہی ہوگا، اس کے علاوہ یہ معجزہ اللہ کی مہربانی سے کوئی اور نہیں دکھا سکتا۔
پاکستانیو، دل کھول کر عمران خان کی اپیل پر لبیک کہو اور دنیا میں ایک نئی تاریخ رقم کردو۔ اتنا مجھے علم ہے کہ عمران خان کی نیت ٹھیک ہے اور جب نیت ٹھیک ہو تو اللہ کی مدد شامل حال ہوجاتی ہے ۔ ۔ ۔

یہ ڈیم انشا اللہ ضرور بنے گا، اور عوام کی مدد سے ہی بنے گا!
