معلوم حقائق میں سے سب سے مستند مگر سرد اور بھیانک ترین حقیقت. موت. جس نے آج کلثوم نواز کو گلے لگا لیا. وہ جہاں گئیں ہیں وہاں یہاں سے زیادہ آسائشیں اور آسانیاں ہیں خدا ان کے نصیب میں فرمائے. اور ہمارے وہ جو گزر چکے ہیں یا جنہوں نے گزرنا ہے ان کے بھی نصیب فرمائے.
موت کا زندگی سے رشتہ اتنا ہی پرانا ہے جتنی کہ زندگی خود. ابا جی آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک ہمارے اربوں رشتہ دار وفات پا چکے ہیں. درجنوں ایسے واقف کار یا رشتہ دار ہوں گے جن کی زندگی ہماری زندگی میں ہی موت نے لے لی اور ان میں سے ایک آدھ ایسے بھی ہوں گے جنہوں نے ہماری آنکھوں کے سامنے یا ہمارے ہاتھوں میں دم توڑا ہوتا ہے. اس کے باوجود ہم موت سے متعارف نہیں ہو پاتے. یقین کریں موت کی ہر خبر پہ یوں ہی ردعمل ہوتا ہے جیسا کہ موت ایک انہونی ہو جو پہلی مرتبہ ہو رہی ہو. خدا جانے موت کی خامی ہے یا خوبی پر بہرحال یہ جب بھی واقع ہو جائے یوں لگتا ہے جیسے پہلی دفعہ ہو رہی ہو. مجھے اس سوال نے 8 سال تک الجھائے رکھا کہ زندگی سے اتنا قدیم ناطہ ہونے کے باوجود موت انسان کےلیے ہمیشہ انہونی کی حیثیت کیوں رکھتی ہے؟

ابا کی بیماری تک یہ پہیلی ایک پہیلی ہی تھی میرے لیے کہ موت سے تعارف آخر کیوں نہیں کر پایا انسان. کیوں ہر مرتبہ یہ دہلا، لرزا اور چونکا دینے والی ہی ہوتی ہے حالانکہ اتنی قدیم ہے جتنی کہ زندگی. سی ایم ایچ کھاریاں کے ٹھنڈے وارڈز میں گھومتے پھرتے، سوچوں میں آگ بھر دینے والے اس سوال کا جواب مجھے تب مل گیا تھا جب والد کی زندگی کی بھیک کےلیے میں روز خدا سے ہم کلام ہوا کرتا تھا. مجھ پہ کھلا کہ یہ موت کا ردعمل نہیں ہے جو انسان اتنی شدت سے دیتا ہے. یہ اپنوں کے بچھڑ جانے کا ملال ہوتا ہے دراصل. یہ ان رفاقتوں کے اختتام کا ماتم ہوتا ہے جن کی طوالت انسان قیامت تک چاہ رہا ہوتا ہے. اور ہمیشہ یہ موت کا خوف نہیں ہوتا بلکہ اپنوں کے بچھڑ جانے کا خوف ہوتا ہے، ان کی موجودگی کا احساس ختم ہونے کا خوف اور ان کے کبھی لوٹ کر نہ آنے کا خوف ہوتا ہے جو موت سے جڑا ہوا ہے. یہی وہ صدمے اور خوف ہیں جن کی وجہ سے انسان موت سے گریز پا ہے نہیں تو موت جتنی قدیم ہے اب تک انسان کےلیے ایک انہونی نہ رہتی.
ہاں اس خوف سے ہٹ کے اگر موت کو دیکھیں تو اس کا خیال بہت رومانوی محسوس ہوتا ہے. ممکن ہے بعض کو اعتراض ہو مگر مجھے اس میں رومانویت لگتی ہے. یہ باوفا محبوبہ کی طرح ایک ایک سانس آپ کے ساتھ چلتی ہے. یہ کبھی اپنے وقتِ مقررہ سے پہلے نہیں آتی. اور چونکہ وقتِ مقررہ سے پہلے نہیں آتی لہٰذا ایک پہریدار کی مانند یہ زندگی کی حفاظت کرتی ہے. ساری زندگی بھلے حوادث سے بھرپور ہی کیوں نہ ہو یہ آنے سے پہلے تک بہ طورِ محافظ زندگی کا ساتھ دیتی ہے. پھر یہ ضد کی پکی ہے کسی ضدی معشوقہ کی طرح. آ جائے تو کسی صورت نہیں ٹلتی. اس میں ایک بھید اور اسرار چھپا ہے جسے وہی پاتا ہے جسے یہ گلے لگائے یا للہ چاہے.
خیر بات مرحومہ کلثوم نواز سے چلتی کہیں سے کہیں نکل گئی. خدا انہیں غریقِ رحمت فرمائے. دعا ہے ن لیگ ان کی وفات کو سیاسی رنگ نہ دے. موت سے پناہ مانگتے سیاست دان کتنے عجیب ہیں، موت سے بھاگتے ہیں لیکن سیاست قبروں، میتوں اور لاشوں پہ کرتے ہیں. خدا بیگم کلثوم نواز کو اس سے محفوظ رکھے اور ان کی عاقبت پر سکون کرے. آمین