نزدیک نزدیک آ جاؤ جن کا اسلام زیادہ غیر محفوظ ہے۔
آدھا تیتر اور آدھا بٹیر بننے سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا۔ یا تو ہمیں اپنے کرتوت درست کرتے ہوئے خود کو ایسا بنانا ہے کہ قران کی سورۃ آلِ عمران کی آیت نمبر 139 کی عملی تشریح ہم پر پوری اتر سکے کہ "’اور تم سستی نہ کرو، اور نہ غم کھاؤ تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو" بناؤ نا پھر مومن خود کو اور غالب کرو خود کو دنیا پر۔ غالب کا مطلب یہ نہیں کہ باقیوں سے جینے کا حق چھین کر ان کا جینا حرام کر دو، نہیں اسلام یا قران اس کی ہر گز اجازت نہیں دیتے۔ غالب کا مطلب زندگی کے ہر شعبہ میں مومن بن کے غلبہ پاؤ۔ مذھب میں، ٹیکنالوجی میں، سائنس میں، معاشرت میں، معیشت میں۔ ثقافت میں، تمدن میں، تہذیب میں، طِب میں، انجینئرنگ میں، اور سب سے بڑھ کر دین میں۔ دین کی سمجھ اتنی حاصل کرو کہ قادیانی تو کیا دنیا کی کسی بھی جدید ترین تہذیب کے سامنے جب اس کی تعلیمات پیش کرو وہ چلا اٹھیں کہ یہ دین عصرِ حاظر کے تقاضوں سے کتنا ہم آہنگ ہے۔ کہاں قران کی فہم و فراست رکھنے والے وہ عظیم المرتب لوگ جن کا دعوی تھا کہ میرے اونٹ کی رسی بھی گم ہو جائے تو میں اسے قران کے زریعے سے تلاش کر لوں(عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما)۔ اور کہاں تم لوگ جو قران کی آیات کو مخالف فرقوں کے خلاف بہ طورِ ہتھیار استعال کرتے ہو۔ جہان بانی و جہاں گیری تم کرو گے؟
ہم پنجابی محاورے "بھُک بھنگڑے تے عشق بنیرے" کی عملی تفسیر بن چکے ہیں۔ مار دنیا میں جگہ جگہ کھا رہے ہیں اور پھر آپس میں ایک دوسرے کو شیعہ کافر، وہابی گستاخ، اور سنی مشرک کہہ کر بھی مار رہے ہیں۔ میدانِ عمل میں کہیں بھی عیسائیوں یہودیوں یا قادیانیوں نے ہم مسلمانوں کو منع نہیں کر رکھا کہ تم لوگ اعلی تعلیمی ادارے نا بناؤ۔ ہمیں انہوں نے منع نہیں کر رکھا کہ تم سائنسدان، انجینئرز، ڈاکٹرز اور معاشیات دان پیدا نہ کرو۔ اسلام کی سربلندی کی دعائیں مانگنے والی قوم کے بازارِ حسن آباد ہیں مسجدیں ویران ہیں۔ دوسری طرف سنیماز تو آباد ہیں البتہ لائبریریاں اور رسد گاہیں (لیبارٹریاں) ویران ہیں۔ تعلیمی ادارے تھوک کے حساب سے کھوتے پیدا کر رہے ہیں اور ان کے گلوں میں ڈگریاں باندھ باندھ کر معاشرے میں ہانک رہے ہیں کہ جاؤ پہلے سے برباد شدہ اس ملک کو مزید برباد کرو۔ مجھے خدا لگتی بتاؤ ہمارے طلباء کا کتنے فیصد طبقہ ہے جو پیٹ کی فکر کے بجائے تعلیمی ادارے سے یہ سوچ لے کر نکلتا ہے کہ میں اپنے ملک کا نام بین الاقوامی سطح پر روشن کروں گا۔ کتنے فیصد ایسے جوان ہیں جن کے دماغ میں یہ سوچ ہی پائی جاتی ہو کہ اسلام کو ہم نے اس احسن طریقے سے پریکٹس کرنا ہے کہ دنیا ہمارے عمل سے متاثر ہو کر ہمارے دین کی قدر کرے۔
ہم خود کھوکھلے ہیں ہم بھوسے کی وہ دیوار بن چکے ہیں کہ ہوا کے ایک ہلکے سے جھونکے سے جس کے اڑ جانے کا خدشہ ہوتا ہے۔ جھُک جاتا ہے میرا سر شرم سے جب میں یہ دیکھتا ہوں کہ 22 کروڑ مسلمانوں میں بیس لاکھ قادیانیوں کا خوف پایا جاتا ہے۔ او تمہیں دنیا پر حکومت کرنے والا دین اور کائنات پہ حکمرانی کرنی والے کتاب دے کر بھیجا گیا تھا۔ آج اپنی اوقات دیکھو 22 کروڑ ہو اور خوفزدہ ہو بیس لاکھ کی غیر مسلم قادیانی اقلیت سے۔ باتیں کرتے ہو دنیا پہ حکمرانی کی اور خود اپنے ملک میں اتنے غیر منظم، بے عملے، بے بصیرتے ہو کہ یہ سوچ کر ڈرتے رہتے ہو کہیں یہ 20 لاکھ کسی سازش کے تحت ہم 22 کروڑ پہ غالب نہ آ جائیں۔ شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ تمہارا اسلام تمہارے 22 کروڑ ہونے کے باوجود غیر محفوظ ہے۔ او یہ اسلام غیر محفوظ نہیں ہے ہم نکموں کا احساسِ کمتری اور خوف ہے کہ جتنے نا اہل اور سست ہم واقع ہوئے ہیں، کہیں یہ ہم پہ غالب نہ آ جائیں۔ تو تمہیں اگر غالب رہنا ہے تو اللہ کے اس پیغام کو سنو جو سورۃ آلِ عمران کی آیت نمبر 139 میں دے رہا ہے۔ '’اور تم سستی نہ کرو، اور نہ غم کھاؤ تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو"
تحریر: سنگین علی زادہ۔

سنگین علی زادہ

Written by

|Humble Pakistani| |Bleed Green| |Social Media Activist| |Social Media Warfare Strategist| |Writer| |Blogger| |Trendsetter|