تذبذب کی شکار دل کی دنیامیں علم کا ہجوم ہوتا ہے۔ اگر کسی چیز کی کمی ہوتی ہے تو نظر کی۔ ہم بھاگتے ہیں گرتے ہیں لیکن غور نہیں کرتے۔ نظر نہ آنے کی وجہ یہ بھی ہے کہ اس وقت علم آنکھ کے بہت قریب ہوتا ہے۔ اور بہت قریب پڑی چیز ہمیشہ دھندلی دکھائی دیتی ہے۔ بس یہی وقت ہوتا ہے فیصلہ لینے کا کہ آپ نے بھاگتے ہوئے ٹھوکر کھا کہ گرنا ہے یا اک لمحہ ٹھہر کہ زندگی بھر کا سکون پانا ہے۔
*ذاتی تحریر بقلم خود محمد عادل ساجد*
