کچھ برس کی بات

ابھی کچھ برس کی بات ہے

خود کو رکھا تھا کہیں سنبھال کے

پرانی اخبار میں لپیٹ کر

کسی دراز میں بہت خیال سے

جو آج پھر خیال آیا تو سوچا

چلو دیکھیں اس متاع حیات کو

اپنے ماضی کی کل کائنات کو

جو ڈھونڈا جہاں رکھا تھا خود کو

ملا بوسیدہ پرانی اخبار کا پرزہ

اور ایک اندوہ ناک خالی پن

کسی بیتے ہوئے کل کا لمس

کوئی آشنا خفیف سی خشبو

اور بجھا ہوا تھکا ہوا سناٹا