یار یہ اتنا تو قابل نھی تھا۔

Hamza Ahmad Raza
Nov 5 · 5 min read

یار یہ اتنا تو قابل نھی تھا۔ یہ کیسے یہاں تک پہنچ گیا۔

یہ وہ الفاظ ہیں جو میرے ذہن میں اس وقت آئے جب میں امریکا کی کنساس اسٹیٹ یونیورسٹی میں ایک رہبر کے طور پر اپنے سے ایک سال بعد انے والے طلبہ کو رہنمائی دینے کے بعد ہوٹل میں اپنی میز پر بیٹھ کر اپنے گزرے ہوئے پورے دن کا جائزہ لے رہا تھا۔

کون سی بات ایسی تھی جسکی ادائیگی کرنا ضروری تھی کون سے ایسے الفاظ تھے جو میری زبان سے کسی کے لیے تکلیف کا باعث بنے ہوں گے۔ جس شخص سے جیسے برتاؤ کرنے کا حق تھا کیا وہ ادا کیا۔ کسی کی عزت کرنے میں یہ کسی کو اہمیت دینے میں کوئی فرق تو نھی رہا۔ کیا کسی کو اپنی ذاتی ضرورت یا…

Keep the story going. Sign up for an extra free read.

You've completed your member preview for this month, but when you sign up for a free Medium account, you get one more story.
Already have an account? Sign in

Hamza Ahmad Raza

Written by

PhD Scholar , Electrical Computer and Energy Engineering dpt, Arizona State University.

Welcome to a place where words matter. On Medium, smart voices and original ideas take center stage - with no ads in sight. Watch
Follow all the topics you care about, and we’ll deliver the best stories for you to your homepage and inbox. Explore
Get unlimited access to the best stories on Medium — and support writers while you’re at it. Just $5/month. Upgrade