دلوں کے ارب پتی

فیس بک کے بانی مارک زکر برگ کو کون نہیں جانتا، 20 برس کی عمر میں جب ہمارے ہاں نوجوان مستقبل کے سنہرے خواب دیکھ رہے ہوتے ہیں اور پھر برسہا برس ملازمت کے حصول کیلئے سرکاری و نجی دفاتر کے دھکے کھاتے پھرتے ہیں، اس نے سماجی رابطے کی اس ویب سائٹ کی بنیاد رکھی اور دیکھتے ہی دیکھتے امریکی کے امیر ترین افراد کی صف میں شامل ہو گیا۔ مجھے اس قابل رشک نوجوان کی کتاب زیست کا مطالعہ کرنے کا شوق تو تھا مگر چند روز قبل بیٹی کی ولادت پر اس نے اپنے 99 فیصد شیئرز فلاح انسانیت کیلئے وقف کردیئے تو یہ شوق کئی گنا بڑھ گیا۔
جو دولت آپ نے 20 سال کی بالی عمر میں حاصل کی ہو، اسے11سال بعد ہی کسی اعلیٰ و ارفع مقصد کی خاطر دان کر دینا، مشکل ہی نہیں بہت مشکل ہوتا ہے۔ وہ نوجوان جن میں کچھ کر گزرنے کا جذبہ ہے، ان کیلئے یہ جاننا ضروری ہے کہ مارک زکر برگ کے پاس آخر ایسی کونسی گیدڑ سنگھی تھی کہ کامیابی نے اس کے قدم چومے۔ ایک ایسا طالبعلم جسے ہارورڈ سے نکال دیا گیا، اس نے کامیابی کی منازل کیسے طے کیں؟ اور اسکے نقش قدم پر چلتے ہوئے نوجوان کیسے کامیابی کا سفر طے کر سکتے ہیں؟ یہ سوال مارک زکر برگ سے کئی بار پوچھا گیا اور اس نے ہر بار اپنا 5 فارمولا دہرایا ۔اس کے نزدیک کوئی بھی شخص پانچ سنہری اصول اپنا لے تو دنیا کی کوئی طاقت اس کا راستہ نہیں روک سکتی ۔
۔ جس پر آپکا یقین ہے اس کا تعاقب کرتے ہوئے اپنی توانائیاں توانا رکھیں اور اپنی کمٹمنٹ کو مہمیز کرتے رہیں ۔
۔ محض کوئی نئی پروڈکٹ ہی نہ متعارف کروائیں بلکہ اس کیلئے ایک بامقصد تحریک شروع کریں۔
۔ ایک مضبوط ٹیم تیار کریں جو آپکے اس وژن کو متشکل کر سکے۔
۔ ایک ایسی پروڈکٹ متعارف کروائیں جو نہ صرف جدید ہو بلکہ وقت کے تمام سانچے بدل کر رکھ دے اور ہر چیز تبدیل کر کے رکھ دے۔
۔ لوگوں کے ساتھ مضبوط اشتراک استوار کریں تاکہ وہ آپ کےتخیل کو اپنی سوچ سمجھیں اور منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے تمام توانائیاں لگا دیں ۔اور مارک زکر برگ کا ایک شہرہ آفاق جملہ جو لاطینی زبان میں ہے پہلے ہی اسے انگریزی میں ترجمہ کیا گیا ہے ،بہتر ہو گا کہ اسے اردو ترجمے کی بھٹی میں جھونکنے کے بجائے من و عن بیان کر دیا جائے ۔
