ماں ، خدا کی محبت کا روپ

​ماں کے بارے میں لکھنا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے برابر ہے۔ایک ایسا سمندر جسکی اتھاہ گہرائیوں کا اندازہ بھی کرنا انسانی عقل سے بالاتر ہے ۔ہر رشتے کی محبت کو الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے مگر ماں کی محبت ناقابلِ بیاں ہے ۔ماں کہنے کو تو تین حروف کا مجموعہ ہے لیکن اپنے اندر کل کائنات سموئے ہوئے ہے۔ماں کی عظمت اور بڑائی کا ثبوت اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گا کہ خداوندکریم جب انسان سے اپنی محبت کا دعوی کرتا ہے تو اس کیلئے ماں کو مثال بناتا ہے۔ماں وہ ہستی ہے جسکی پیشانی پہ نور،آنکھوں میں ٹھنڈک، الفاظ میں محبت ،آغوش میں دنیا بھر کا سکون،جسکو اک نظر پیار سے دیکھ لینے سے ہی ایک حج کا ثواب مل جاتا ہے۔

“جب میں دنیا کے ہنگاموں سے تھک جاتی ہوں ،اپنے اندر کے شور سے ڈر جاتی ہوں تو پھر میں اللہ کے آگے جھک جاتی ہوںیا پھر اپنی ماں کی گود میں سر رکھ کے جی بھر کے رو لیتی ہوں”یہ فرمان تھا حضرت رابعہ بصری کا۔ماں و ہ ہستی ہے جسکا نعم البدل نہیں ماں ایک گھنے درخت کی مانند ہے جومصائب کی تپتی تیز دھوپ میں اپنے تمام بچوں کو اپنی مامتا کے ٹھنڈے سائے تلے چھپا کے رکھتی ہے جیسے ایک مرغی مصیبت کے وقت اپنے تمام چوزوں کو اپنے پروں میں چھپا لیتی ہے یہ سوچ کر کے اسے چاہے کچھ بھی ہو جائے مگر اسکے بچے محفوظ رہیں۔ایسی محبت صرف ایک ماں ہی دے سکتی ہے۔ ساری عمر بھی اس کے نام کی جائے تو بھی حق ادا نہ ہو، اسکی ایک رات کا بدلہ بھی نہیں دیا جا سکتا۔

جہاں ماں کا ذکر آگیاسمجھ لینا چاہیے کہ ادب کا مقام آگیا۔اللہ نے ماں کی ہستی کویہ جان کر بنایا ہوگا کہ جب ایک ہارا ہوا انسان ناکامیوں کا سامناکر کے تھک جائے تو ماں کی آغوش میں پناہ لے اور اپنے سارے رنج و الم ،دکھ اور غم ماں کو کہہ سنائے اور جب ماں پیار سے اسکی پیشانی چومے تو اس کی تمام پریشانیاں اور اندیشے ختم ہو جائیں۔ماں اپنے اندر شفقت و رحمت کا ایک سمندر لیے ہوئے ہے جیسے ہی اپنی اولاد کو پریشانی میں مبتلا دیکھتی ہے ماں کا دل تڑپ اٹھتا ہے اسکے اندر موجود محبت کے سمندر کی لہریں ٹھاٹھیں مارنے لگتی ہیں اور تمام دکھ بہا کر دور بہت دور لے جاتی ہیں جس سے اولاد میں نئے سرے سے جینے کی امنگ پیدا ہوتی ہے۔

بوعلی سینا نے کہا اپنی زندگی میں محبت کی سب سے اعلی مثال میں نے تب دیکھی جب سیب چار تھے اور ہم پانچ تب میری ماں نے کہا مجھے سیب پسند ہی نہیں ہیں۔جب بچہ ماں کے پاس ہوتا ہے تو ہر غم اس سے دور ہوتا ہے ماں خود بھوکا رہ لے گی مگر اپنے بچوں کو پیٹ بھر کر کھانا کھلائے گی،سرد راتوں میں جب اسکا بچہ بستر گیلا کر دیتا ہے وہ ساری رات خود تو گیلی جگہ پر سو جائے گی لیکن اپنے بچے کو خشک جگہ پر سلائے گی۔بچہ اگر گھر دیر سے پہنچے تو اسکی حالت ریت پر پڑی مچھلی کی مانند ہو جاتی ہے،ماں تو وہ ہستی ہے جسکا بچہ مرا ہوا بھی پیدا ہو جائے تو وہ اس غم سے باہر نہیں آ پاتی۔لیکن یہی بچہنا جانے کب بڑا ہو جاتا ہے اسکی رگوں میں خون کی تیزی ماں کے دل کو عجب تقویت بخشتی ہے ۔پھر ایک دن آتا ہے جب اس بچے کو دنیا سے محبت یو جاتی ہے اسے ماں کی روک ٹوک چبھنے لگتی ہے اور وہ ماں کی نصیحتوں سے بیزار آجاتا ہے۔

حضرت موسی علیہ السلام نے ایک دفعہ اللہ تعالی سے پوچھاکہ جنت میں میرے ساتھ کون ہو گا؟ارشاد ہوا فلاں قصاب ہو گا۔۔۔آپ کچھ حیران ہوئے اور اس قصاب کی تلاش میں چل پڑے۔وہاں دیکھاتوایک قصاب اپنی دوکان میں گوشت بیچنے میں مصروف تھا۔اپنا کاروبار ختم کر کے اس نے گوشت کا ایک ٹکڑا کپڑے میں لپیٹااور گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔حضرت موسی علیہ السلام نے اس قصائی کے گھرکے بارے میں مزید جاننے کیلئے بطور مہمان گھر چلنے کی اجازت چاہی۔گھر پہنچ کر قصائی نے گوشت کو پکایاپھر روٹی پکا کر اس کے ٹکڑے شوربے میں نرم کئے اور دوسرے کمرے میں چلا گیا جہاں ایک نہایت کمزور بڑھیا پلنگ پر لیٹی ہوئی تھی۔

قصاب نے بمشکل اسے سہارا دے کر اٹھایااور ایک لقمہ اس کے منہ میں دیتا رہا۔جب اس نے کھانا تمام کیا تو بڑھیا کا منہ صاف کیا۔بڑھیا نے قصاب کے کان میں کچھ کہا جسے سن کر قصاب مسکرایا اور بڑھیا کو واپس لآ کر باہر آگیا۔حضرت موسی علیہ السلام جو یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے۔آپ نے قصاب سے پوچھا یہ عورت کون ہے اور اس نے تیرے کان میں کیا کہا جس پر تو مسکرادیا؟قصاب بولا ارے اجنبی !یہ عورت میری ماں ہے۔گھر پر آنے کے بعد میں سب سے پہلے اس کے کام کرتا ہوں یہ روز خو ش ہو کر مجھے دعا دیتی ہیکہ اللہ تجھے جنت میں حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ رکھے گا جس پر میں مسکرا دیتا ہوں کہ بھلا میں کہاں اور موسی کلیم اللہ کہاں!

ماں سےمحبت کے اظہار کیلئے کسی ایک دن کو مختص نہیں کیا جا سکتا سال میں ایک دن منا لینے سے بات نہیں بنتی بلکہ اسلام میں تو ہر دن ہر لمحہ مدر ڈے ہے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کی مائیں حیات ہیں۔مگر افسوس مادیت ذدہ معاشرے نے خاندانی نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے جس سے والدین کی عزت رسمی ہو کر رہ گئی ہے۔وہ معاشرہ جہاں ماں کے قدموں تلے جت اور باپ کی رضا میں رب کی رضا ہوتی تھی آج وہی معاشرہ اس جنت اور اس رضائے الہی سے دامن چھڑاتا نظر آتا ہے۔ماں باپ سے بدکلامی کرنے کو خدا نے سخت نا پسند کیا ہے یہاں تک کہ لفظ اف کو بھی خدا نے ماں باپ کی شان کے خلاف قراردیا ہے کیونکہ اس لفظ سے مزاج کے خراب ہونے کی بو آتی ہے۔

ماں ایک مہتاب کی مانند ہے ۔زمین پر خدا کی محبت کا چلتا پھرتا روپ ماں ہوتی ہے ۔ماں کی ڈانٹ میں بھی پیار اور بھلائی چھپی ہوتی ہے وہ کبھی دل سے نہیں ڈانٹتی۔ماں کبھی کسی کو دل سے بددعا نہیں دیتی جس نے ماں کا دل دکھایا گویا وہ دنیا میں نامراد آیا اور نامرادہی آخرت کو لوٹا۔اس ہستی کا مقام کل کائنات سے بھی بڑا ہے۔دنیا جہان کی وسعتیں اس ہستی میں پوشیدہ ہیں۔دنیا میں سجنے والی ہرمحفل کی روشنی اسکے پیار کے نور کے آگے ہیج ہے۔

اس وقت انسان اپنے آپ کو ایک بچے کی مانند محسوس کرتا ہے اور یہ یادیں انسان کو ماضی کے دریچوں میں لے جاتی ہیں۔جب وہ ایک چھوٹا معصوم بچہ تھا جسے ماں اپنی آغوش میں لیکر اپنی مامتا کے آنچل میں ڈھانپ رکھتی تھی اور اب وہ ایک مختلف دنیا میں زندگی بسر کر رہا ہے ۔بے شک رونے سے تزکیہ نفس ہوتا ہے،روح کی آلودگی ختم ہوتی ہے اور قلب کو سکون ملتا ہے ۔لیکن ماں باپ کی قدر انکی زندگی میں ہی کر لیں بعد میں بہائے جانے ولے آنسو دل کا بوجھ تو ہلکا کر سکتے ہیں مگر ضمیر مسلسل ملامت کرتا رہے گا ۔ماں باپ کی خدمت کریں انکے آگے خاموشے اختیار کریں۔غصے میں صبر سے کام لیں۔ماں باپ سے محبت خدا کی جانب سے فرض کی گئی ہے اور اسکا اجر بھی خدا ہی دے گا

شکریہ