12 اکتوبر 1999 اور پٹواری


‏میرے لذیذ ہم وطنو ۔۔۔۔۔
اور 12 اکتوبر 1999 کی رات
باتھ روم میں بند نورا نہاری
لیکن پٹواری ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے
سر پر کفن باندھ کر نکل آئے
‏آمریت کی گود میں پلنے والے جمہوری ڈکٹیٹر کے لیے یہ حیرت زدہ بات تھی جس نے سپریم کورٹ پر حملہ کردیا اور ججوں کو مار مار مر بھگا دیا
‏جمہوری آمر کےلیےبہت حیرانگی تھی کہ جس نے کبھی اسامہ بن لادن سے35 لاکھ ڈالر تک لے لیے تاکہ بینظیر حکومت کو الٹ سکے کہ اسکے ساتھ ایسا کیوں ہوا
‏وہ جس کوامیرالمومنین بننےکا جنون سوار تھا جب اسکےاوندھےمنہ باتھ روم کےکموڈ میں رکھاگیا
اسکےلیےکوئی 24 تو کیا 12 لاکھ والے کتے بھی نہ بھونکے
‏وہ ڈکٹیٹر جس نے پیلی ٹیکسی سکیم سے اربوں روپے بنائے وہ اپنی صاحبزادی کے ہاتھ پیلے نہ کرسکا پیشتر اسکے کہ دختر اسکا منہ کالا کروا دے
‏چھانگامانگا سیاست کےموجد کو اس بات کایقین تھاکہ جس جس کو اس نے زر خرید غلام بنایا ہوا ہے ان میں سےکوئی تو اسکے حق میں نکلے گا لیکن نتیجہ صفر
‏قرض اتارو ملک سنوارو کا سارا پیسہ ھضم کرنے والے جمہوری ڈکٹیٹر جس نےقوم کےپیسےسےباہر جائداد بنائی سوچ رہاتھاکہ پارلیمنٹ اسکوبچائےگی لیکن نہیں
‏مغرور متکبر گھمنڈی وزیراعظم کا غرور ٹوٹ گیا جب اسکومچھر ستانےلگےاور وہ دس سالہ معاہدہ کرکے اس ملک سے بھاگ گیا
یادرہےبھاگنےکی خاندانی عادت ہے
‏لوگ جلا وطن کیے جاتے ہیں لیکن عظیم ڈکٹیٹر ابن الڈکٹیٹر نے 40 بریف کیسوں سمیت خود کو جلاوطن کیا اور پٹواریوں کی ناک ڈیڑھ انچ اونچی کردی
‏آج اسی 12 اکتوبر کو پٹواری ٹینکوں کے آگے لیٹ کر سیاسی و درباری جوش جذبےسےمنائیں گےاوربھاگنےکےعمل کومزید موثر کرنے کی حکمت عملی پر غور کرینگے

One clap, two clap, three clap, forty?

By clapping more or less, you can signal to us which stories really stand out.