پچھلے کئی ماہ سے لاہور کا پروگرام بناتا رہااور پھر کیسنل کرتا رہا، لیکن پچھلے دن پشاور میں موجود شیر شاہ سوری دور کے بنائے گئے پل چوہا گجرپل جانے کا موقع ملا، اورادھرہی تہیہ کیاکہ لاہور جانا ہے اور ضرور جانا ہے، خصوصی طور پر وہاں کے تاریخی مقامات، یونیورسٹیاں اور سیاسی دفاتر دیکھنے ہیں۔ تاریخی مقامات اسلئے کہ جب میں ۲۰۱۰ میں پہلی بار لاہور گیا تھا تو وہاں لاہور قلعہ اور شاہی مسجد سے بے انتہا متاثر ہواتھا، اس وقت مجھے صرف لاہور میں یہ جگہ معلوم تھی لیکن وہاں سے آکر انٹرنیٹ پر کئی اور جگہیں دیکھی تھیں جس کو دیکھنے کی دلی تمنا تھی۔ یونیورسٹیاں اسلئے کہ جان سکوں کہ لاہور اور پشاور کے یونیورسٹیوں میں ایسی کیا بات متفرق ہے ،جو وہاں کے طلبا کو منفرد بناتی ہے؟ اور سیاسی ہیڈ کوارٹرز اسلئے کہ وہ کیسے اپنے پروگرامز ترتیب دیتے ہیں۔

اسی سوچ سے گھر آ کر لاہور میں مقیم تمام دوستوں سے رابطہ کیا، اور پشاور میں بھی دوستوں کو مطلع کیا کہ لاہور میں کو ئی جاننے والے ہوں تو بتائیں، کئی دوستوں نے مدد کی جس میں نیازبین ملنگ، طارق افغان اور ابراہیم آئینگر سرفہرست تھے۔

تین اکتوبر ۲۰۱۷:

صبح نو بجے گھر سے نکل کر فیس بک سے پوسٹ کیا کہ،

اسي سوچ کے ساتھ گھر سے نکلا ، جب حاجی کیمپ اڈا پہنچاتو وہاں ابراہیم آئینگر موجود تھا۔ اس نے مجھ سے پشاور کی کمان لی اور ساتھ ایک سیلفی بھی اتاری۔ بس میں بیٹھ گیا اور بغیر کسی رکاوٹ کے لاہور پہنچ گیا۔

اڈے سے عمر علی ( لیکچرر فاسٹ یونیورسٹی) کو ٹیلی فون کیا، اس سے پتہ پوچھ کر سیدھا اس کے ہاں پہنچا۔ تھوڑے آرام کے بعد فیصل ٹاون میں باہر نکلے وہاں لاہور کا روایتی کھانا کھایااور بعد میں سوات سے تعلق رکھنے والے لکی گول گھپے والے سے اعلٰی گول گھپے کھا کر ایک چھوٹی سی ویڈیو بنائی۔

فیصل ٹاون میں عمر علی اور انکے روم میٹ سے گپ شپ کی اور تھوڑا واک کیا۔ اور فیس بک سےلاہور میں مقیم دیگر دوستوں سے رابطہ کیا، گوگل میپ ( Google Map) سے جگہوں کو دیکھا اور اگلے کل کیلئے منصوبہ عمل تیار کیا۔

چار اکتوبر ۲۰۱۷:یاترہ کا پہلا دن

صبح اٹھ کر عمر نے لاهوری ناشتہ کروایا ۔ اور اسکے بعد فاسٹ یونیورسٹی یونیورسٹی گیا۔ یہ یونیورسٹی پورے پاکستان میں ٹیکنالوجی اور بزنس ایڈمینسٹرینش کے لئے مشہور ہے۔ یونیورسٹی کا رقبہ اتنا زیادہ نہیں لیکن بہت اچھے پلاننگ سے زیادہ چیزیں بنائی گئی ہیں۔ اس یونیورسٹی کے مشین ، ڈیٹا سائنس ، مٹیریل سائنس لیب اور لائبریری کا وزٹ کیا۔

اس سے رخصت ہو کر رائل پام کلب میں شروع ثقافت پر منعقد ہ بین الاقوامی کانفرنس میں شریک ہوا جہاں پر’’کلچر اور تنوع‘‘ پر سیشن شروع تھا ۔اس کے بعد ’’سی پیک اور کلچر‘‘ پر سیشن شروع ہوا جس میں بری فوج کے ایک افیسر نے اپنی بات اس جملے سے شروع کیا ـ،’’ خدا نے ہمیں سی پیک سے اسلئے نوازا کیونکہ الله کا اس ملک پر خاص رحمت ہے۔‘‘ اسی بات سے مجھے اندازہ ہوا کہ اس سیشن کا کوئی فائدہ نہیں۔

سمیع الد ین ارمان صاحب ( لیکچرر ایڈورڈ کالج پشاور) نے فارمین کریسچن (FC) يونيورسٹی کے یاسر سرمد اور نہال خان کے موبائل نمبر دیے تھے ان سے رابطہ کر کے ایف سی یونیورسٹی پہنچ گیا ۔ گیٹ پر یاسر سرمد نے استقبال کیا، سیکورٹی عملے سے یاسر سرمد کا سرپرست کا کہہ کر یونیورسٹی میں انٹری ماری۔ اندر جا کر اس نے یونیورسٹی کے مختلف ڈیپارٹمنٹ دیکھائے، کینٹین پہنچے جہاں نہال اور دیگر دوستوں کا انتظار کے ساتھ یونیورسٹی کے اکیڈمک سٹرکچر ، داخلہ ، مارکس اور اس سے متعلق دیگر باتیں ڈیسکس کی گئی۔ اسی اثنا دیگر پشتون دوست بھی پہنچ گئےاور باقی یونیورسٹی کا وزٹ کیا ۔ یونیورسٹی میں موجود تاریخی لائبریری دیکھی ، جو طلبا سے بھری ہوئی تھی۔ وہاں سے نکل کر مرسی ہیلتھ سنٹر گئے۔ اس سیکشن نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا ۔ سيکشن ميں میڈم بشرہ نے سنٹرکا دورہ کروایا اور کہاکہ یہ سیکشن طلباکو نفسیاتی ، مطالعاتی اور کیرئیر کے ساتھ Depression, Smoking Cessation, Relaxation Exercise, Peer Pressure, Exam Stress, Drug Addiction, Bullying, Anger Management, Conflict Management, Anxiety Management, Deep breathing, Procrastination, Self-harm پر خصوصی سیشن کرواتی ہے۔

وہاں سے نکل کر سائنس بلاک کا وزٹ کیا۔ یونیورسٹی سے نکلنے سے پہلے وہاں پر میں نے ایک پشتون طالب علم سے چھوٹی سی آڈیو انٹر ویو بھی کی۔ یونیورسٹی سے کافی کچھ سیکھ کر نکلا۔

آڈیو کو ایڈٹ کرنا تھا لیکن وقت کی کمی کی وجہ سے بغیر ایڈیٹ ڈال دیا ہے، غلطی کیلئے پیشگی معذرت خواہ

اس کے بعدبونیر کے صابر خان (صدر ، انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن لاہور) سے رابطہ کیا وہ کچھ ہی دیر میں ایف سی یونیورسٹی کے گیٹ پہنچا، اسکے ساتھ آزاد خان داوڑ بھی موجود تھا۔ ان دونوں کے ساتھ پنجاب یونیورسٹی گیاجہاں پر پشتون ایجوکیشن ڈیولپمنٹ موومنٹ کے چیئر مین مذمل خان سےملا۔

ان سے جامعہ پنجاب کی سیاست سمجھنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد جامعہ کے مختلف ڈیپارٹمنٹ وزٹ کیے اور پھر وائس چانسلر سے ملاقات کرکے کینٹن میں ایک محفل سجایا گیا جس میں مختلف اضلاع اور قبائلی علاقوں سےتقریباََ دودرجن طلبا شریک ہوئے۔

میں نے اپنا دورے کا مقصد بیا ن کر کے کہا، ’’ آپ سب اپنے علاقوں سے یہاں آ کر تعلیم حاصل کر رہے اور مجھے امید ہے کہ آپ سب نے اپنے علاقوں اور لاہور کا موازنہ کیا ہوگا کہ ہم کیوں پسماندہ ہیں؟ اور ساتھ یہ بھی پابندی لگائی کہ ریاست کے ظلم و جبر کا مجھے خوب علم ہے اس کے علاوہ کوئی اور وجہ بیان کریں جو حصوصا ہماری اپنی غلطی ہو، بحث تقریبا دو گھنٹوں تک جاری رہی لیکن مجھے کوئی خاطر خواہ جواب نہ مل سکا۔ محفل برخواست ہوئی ، صابر خان اور آزاد خان مجھے پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین کا دفتر لے گئے ۔ وہاں کا مختصر جائزہ لیا، لیکن میرے غرض کے لوگ نہیں تھے اس لئے وہاں سے واپس نکلے اور ایم ایم عالم روڈ کے طرف چلے گئے جہاں ’’قبائل ‘‘ نامی ریسٹورنٹ پہنچے ، کافی استدلال کے باوجود مجھے وہاں زبردستی کھانے کیلئے بیٹھا یا گیا، میں نے بارہاں کہا کہ بھائی مجھے پنجاب کی کوئی دیسی چیز کھلاو لیکن میں ہار مان کر بیٹھ گیا۔ ریسٹورنٹ کا کھانا بہت عمدہ تھا، ریسٹورنٹ کو پشتون ثقافت کی طرز پر بنا یا گیا تھا، دیوار، بیٹھنے کی جگہ، بیروں کے لباس، باہر سے نظارہ اور حطہ کہ باہر ایک ڈول باجے اور اتڑ کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔

اسکے بعد ليبرٹی مارکیٹ کا چکر لگایا اور پھر صابر نے مجھے عمر کے ہاں اتارا۔ عمر نے رائل قلفی کھلائی اور پنجابیوں کے مارکیٹنگ سکلیز پر بحث شروع کی اور بات اس پر ختم ہوئی کہ ہم برانڈنگ میں اسلئے ناکام ہیں کہ ہم اپنے ہر ہنر کو برا سمجھتے ہیں۔ کمرے میں آکر کل کیلئے منصوبہ تیار کیا اور سو گیا۔

کمرے میں آکر کل کیلئے منصوبہ تیار کیا اور سو گیا۔

پانچ اکتوبر ۲۰۱۷:یاترہ کا دوسرادن

صبح اٹھ کر حسب سابق لاہوری ناشتہ کیا ۔نیاز بین ملنگ نے کامِل افغان کا موبائل نمبر دیا تھا۔ اس سے رابط کیا، اس نے اپنے چھوٹے بھائی خپلواک افغان کو مجھے گھومانے کی ذمہ داری سونپی۔میں نے فون پر کہا کہ میں سیدھا لاہور عجائب گھر جاونگا تو اس نے کہا کہ میں بھی آتا ہوں، عجائب گھر ویکٹوریا طرز پر ایک زبردست عمارت تیار کی گئی ہے۔میری توقع تھی کہ میں آج کے دن کا پہلا شخص ہونگا جو عجائب گھر میں قدم رکھے گا۔لیکن میرے پہنچنے سے پہلے خاصی تعداد عجائب گھر میں موجود تھے، موبائل فون اندر جانے کی اجازت نہیں تھی اسلئے ٹکٹ گھر کے باہر جمع کروایا۔عجائب گھر کی پہلی گیلری سیکھوں ماہراجوں کی تھی ، جس کو بہت نفیس اور پر آثر انداز سے سجایا گیا تھا۔ 
 اس گیلری میں سب سے زیادہ دلچسی رنجیت سنگھ نے جو قران اپنے شاہی حکیم اور وزیر فقیر سید نور الدین کو تحفے میں دیا تھا وہ قران مجید بھی موجود تھی اور اس پر فن پارے بھی بنائے گئے تھے۔ اس کے پیچھے چائنہ کی ثقافت پر گیلری بنائی گئی تھی ، چائنہ برتن اور موسیقی کے آلات رکھے گئے تھے اس کے ساتھ افریقہ کے ثقافت پر بھی کئی مجسمے اور چیزیں موجود تھیں۔ ہال ميں 1974 کے لاہور میں منعقدہ مسلم ممالک کے کانفرنس میں شریک سربراہوں کے پوٹریٹ بھی لگائے گئے تھے۔
دوسرے گیلری گندہارا تہذيب کی تھی جس میں تقریبا تمام نمونے ہمارے صوبے کے کھنڈرات کے مشابہہ تھے ، بدھا کے پوری زندگی جو پتھروں پر کندہ کی گئی ہے کو اچھے ترتیب سے سجایا گیا تھا (یہ قصہ پشاور عجائب گھر میں بھی موجود ہے)فاقحہ بدھا اور دیگر آثا ر مجھے دلچسپ لگے۔ بدھا کا پیالا جو بدھ مت اور ارکیالوجی میں ایک حاص اہمیت رکھتی ہے اس کا نقل تیار کیا گیا تھا اور نیچے لکھا تھا کہ اس کی اصل کاپی پشاور عجائب گھر میں موجود ہے ۔ اس کے بعد اسی گیلری کے پیچھے ہندو مت کی ایک بہت زرخیز گیلری موجود ہے جس میں اشوکا سائن بھی موجود ہے۔
سوات کے ثقافت پر ایک الگ گیلری بنائی گئی ہے جس میں سوات کے ملبوسات، رہن سہن ، موسقی کے آلات موجود تھے ، ساتھ والے گیلری میں جین مذہب کی گیلری عمدہ حالت میں موجود ہے۔
ایک گیلری برٹش برطانیہ پر بنائی گئی ہے جس میں بندوقوں کے ساتھ ملکہ ویکٹوریہ کا ایک مجسمہ موجود ہے۔اور ساتھ میں کئی کتبے بھی۔ اوپر تاریخ پاکستان پر ایک گیلری تھی۔ جس میں ا۸۵۷ کے جنگ آزادی سے پاکستان کے آزادی تک تصویروں اور اخبارات سے تاریخ بتانے کی کوشش کی گئی تھی۔ سامنے قدیم اور جدید سکہ (coins) کی گیلری تھی۔
عجائب گھر میں دیکھنے کے لئے بہت کچھ ہے لیکن جس طرح خپلواک میرے ساتھ بور ہو گیا تھا، اسی طرح آپ کو بور نہیں کرنا چاہتا۔

عجائب گھر سے نکلے ، اور چند قدم پر شیر شاہ سوری کا مشہور توپ ’’زمزمہ‘‘ سڑک کے بیچھ اپنے آب وتاب کے ساتھ کھڑا تھا، لیکن ساتھ کی کبوتروں کی جنڈھ دیکھی جس سے امن پر سوچنے کو فوقیت دی۔

خپلواک نے مجھے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے بارے میں معلومات د ی کہ اس کے ادھے حصے کو ہم بنگلہ دیش کہتے ہیں کیونکہ یہ مین کیمپس سے سڑک کی دوسری جانب ہے۔ 
یونیورسٹی داخل ہوئے، اور مین بلڈنگ جو اپنی مثال آپ تھی میرے انکھوں کے سامنے موجود تھی۔

اسکے لائبریر ی کا وزٹ کیا ، اسکے بعد مین بلڈنگ میں موجود میوزک سوسائٹی کے کلاس روم میں پہنچے جس میں طلبا بیٹھے اپنا ریاض کر رہے تھے۔دیوار پر اس سوسائٹی کے نامور گلوکار وں کے نام اور تصاویر اویزاں تھیں جس میں پاکستان کے بہترین موسیقار انہی کالج سے فارغ التحصیل تھیں۔

نیچے آکر خپلواک نے کھانا کھلایا اور پھرپشتون طلبا کے ساتھ سیاسی اور سماجی گپ شپ کی۔اسکے خپلواک نےعلامہ اقبال کا کمرہ دیکھایا۔ یونیورسٹی میں تقریبا ہر جگہ اس جامعہ سے فارغ نامور شخصیات کے بورڈ لگے تھے۔ میں نے لان میں منعقدہ سٹڈی سرکل میں شرکت کی ۔

اسی دوران نیشنل کالج آف ارٹس میں وزٹ کرنے کیلئے دوستوں سے رابطہ کیا لیکن کوئی حل نہ نکل سکا کیونکہ کالج میں آوٹ سائڈر کے داخلے پر مکمل پابند ی تھی۔ صابر سے رابطہ کیا تو اس نے کہا کہ میں بوگس ڈاکیومنٹ بنواتا ہوں آپ میرے یونیورسٹی آ جاو۔ عمر ویسے بھی میری طرف آرہا تھا تو وہ صابر کے ہاں چلا گیا۔ ہم نے اسی دوران پنجاب یونیورسٹی (اولڈ کیمپس) وزٹ کیا جو بالکل اسلامیہ کالج پشاور کی طرح ہے۔وہاں ارٹس اینڈ ڈیزائن اور فارمیسی ڈیپارٹمنٹ وزٹ کیا، اور لائبریری دیکھی ۔

اسکے سامنے لاہور شہرورثه عجائب گھر دیکھا۔ اور ساتھ ہی پنجاب پبلک لائبریری وزٹ کیا جو پاکستان ۔کی سب سے بڑی پبلک لائبریری ہے اور اسی کے ساتھ بارہ دری کی مشہور عمارت بھی ہے

اس دوران عمر کی کال آئی کہ میں پہنچ گیا ہوں۔ اس کے ساتھ وہ جعلی کاغذات تھے۔ کاغذات ميں سائنوپسز تھے، جو ویکی پیڈیا سے تیار کئے گئے تھیں لیکن بہت اچھے طریقے سے تیار کی گئی تھی۔ اس سے ہم نے گیٹ پر موجود سیکورٹی گارڈ کو تو چکما دے دیا لیکن اند ر ایک اور گیٹ تھا۔ جس سے صرف آئی ڈی کارڈ کے زریعے ہی اند ر جانا ممکن تھا۔ خیر وہاں علی مراد (جو این سی اے کے طالب علم ہے ) سے رابطہ کیا کہ تم کوئی راستہ نکالو۔ وہ اندر گیا اور ناکام واپس لوٹا۔ واپس سیکورٹی افیسر کے پاس گئے اور انکو مدعا بیان کیا لیکن وہ نہ مانا۔ بلاخیر یونیورسٹی میں موجود ایک پشتون پروفیسر کے بار ے میں علی مراد نے بتایا۔ میں نے انٹر نیٹ پر اسکی سی وی ڈھونڈی اور کا ل کرکے سچ سچ بتایا کہ ہم نے اندر یونیورسٹی وزٹ کرنی ہے ۔ اس نے سیکورٹی افیسر سے بات کی اور ہم اپنی مشن میں کامیاب ہو کر کالج کے اندر داخل ہوئے ۔ 
داخل ہوتے ہی ، بچپن کامشہور ڈرامہ سیریل’’ کالج جینز ‘‘ کی تھیم سانگ ’’ عبدالقادریہ‘‘ دماغ میں گوجنے لگا۔علی مراد نے کہا کہ فرسٹ ائیر کے اسائمنٹ سٹارٹ ہیں، پہلے وہاں چلتے ہیں ۔ ہال میں داخل ہوئے تو تمام طلبا و طالبات اپنے کام میں مگن تھے ۔ این سی اے تین کورٹ یارڈ پر مشتمل ہے، پہلےکورٹ یارڈ میں ایک مجسمہ بنایا گیا ہے جس میں لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کو بوسہ دے رہے ہیں ، اسکے بعد ایڈورڈ کورٹ یارڈ میں گئے ( یہ وہ جگہ ہے جس میں کالج جیز میں سینئر اوپر سے پانی پھینکتے تھے اور یہ رسم آج تک جاری ہے) وہاں پشاور کے انور سے ملاقات ہوئی جو ملٹی میڈیا ڈیزائن کے سٹوڈنٹس ہے۔ علی مراد نے کالج کے مختلف سٹوڈیو کی سیر کروائی ، پھر درمیانی کورٹ یارڈ میں مختلف سوسائٹیز شروع تھیں۔ جس کو خوب انجوائے کیا۔ این سی اے کے ماحول نے بے انتہا متاثر کیا ، عمر کی کہی وہ بات دوبارہ ضرور کہونگا کہ اگر دوبارہ زندگی ملی تو یہاں ہی پڑھنگے۔

این سی سے رخصت ہوا اور آنار کلی بازار میں انوار نے گل خان کی مشہور چاہے پلائی اسی اثنا کامل افغان اور خپلواک نے بھی آگئے ۔ گپ شپ اور این سی اے پر لمبی چھوڑی بحث ہوئی۔

عمر علی نے رخصت لی اور ہاسٹل چلے گئے اور میں کامل اور خپلواک سے سیاسی گپوں اور جنوبی پختونخوا کے دوستون کے یاداشتیں شئیر کئے۔ انار کلی میں موجود کوئٹہ ہوٹل کھانے کیلئے گئے لیکن میں نے تہیہ کیا تھا کہ آج کوئی پنجابی کھانا کھاونگا۔ میں نے حلیم کی فرمائش کی جس پر کچھ فاصلے

پر موجود ایک بہترین جگہ میں حلیم کھا کر وہاں سے رخصت ہوا اور واپس عمر کے روم میں آگیا۔
جب روم پہنچا تو پشاورکے قاضی جلال اور شہاب درانی کی کا ل آئی کہ ہم ملنے آ رہے ہیں، تھوڑی دیر میں وہ پہنچ گئے۔ لکی سے گول گپے کھائے ،

جلال نے کہا کہ چلو بس اپنا سامان پیک کرو ، ماڈل ٹاون جاتے ہیں۔ بستر گول کر کے ساتھ چلا۔ وہاں پہنچ کر جلال کو اتارا کہ میں اور شہاب اندرون شہر کا ایک چکر لگاتے ہیں تم دروازہ بند کرلینا۔ لاہوری گیٹ سے اندرون شہر گئے ، کئی رستوں سے ہو کر بھاٹی گیٹ پہنچے پھر فوڈ سٹریٹ، اندرون شہر کے سارے لوگ جاگ رہے تھے۔ ایسا نہیں لگ رہا تھا کہ رات کے تین بج رہے ہیں۔ ایک جگہ ملی جس پر لکھا تھا کہ علامہ اقبال نے اپنی شاعری اس چبوترے سے شروع کی۔

طلوع فجر کے ساتھ واپس اپنے ٹھکانے گئے۔اور سو گئے۔

چھ اکتوبر ۲۰۱۷:یاترہ کا تیسرا دن

جمعے کا دن تھا، نماز سے پہلے ماڈل ٹاون کے مارکیٹ میں مٹر گشت کی اور ساتھ ہی یونیورسٹیوں میں دوستوں سے رابطہ کیا۔ ڈاکٹر صمد (ڈائریکٹر ارکیالوجی ڈیپارٹمنٹ ، حکومت خیبر پختونخوا) نے لمز (LUMS — Lahore University of Management Sciences) 
میں ڈاکٹر مرتضٰی کا نمبر دیا تھا۔ اس سے رابطہ کیااور اس جانب روانہ ہوا۔ ڈاکٹر مرتضٰی سکول آف سائنس اینڈ انجنئرنگ ميں پروفیسر ہے، اس کے دفتر گیا اور ملاقات کي اس نے اپنے ايک ريسرچ ايسوسيٹ کے حوالے کیا کہ اسکو یونیورسٹی کی سیر کراو، اس نے لمز کے مختلف سکولز کی سیر کروائی، جس میں سکول آف سائنس اینڈ انجنئرنگ ،سکول آف بزنس، سکول آف ہیومنیٹیز اینڈ سوشل سائنس، سکول آف لا ء کا دورہ کیا ، سکول آف بزنس میں سنٹر آف انٹریپرنیورشپ کاوزٹ کیا اور نکے کام اور لاء کالج کے موت کورٹ دیکھی(جس میں طلبا فرضی عدالت میں اپنی صلاحیتوں کو نکھارتے ہیں )۔ اسکے بعد لائبریری دیکھی جو طلبا سے کچا کچ بھر ی ہوئی تھی۔ نیچے آ رہا تھا تو ساجد خان (لمز کے طالب علم)نے آواز دی ،مجھے جو سیر کروارہا تھا اس سے رخصت کر کے ساجد کے پاس واپس آگیا اور اس کے ساتھ کینٹین میں بیٹھ گیا، ساتھ حیات صالح اور یاسر اقبال بھی بیٹھا تھا۔ اس کے ساتھ یونیورسٹی کے ماحول، داخلہ کا طریقہ کار اور پشتونوں کو درپیش مسائل پر بحث ہوئی۔

بحث جاری تھی کہ ایک ظرف سے تین طلبا شلوار قمیص میں ملبوس آرہے تھے جس میں کوہستان کے عبد المنیم تھا انہوں نے بھی ہمیں جوائن کیا۔ اور ساتھ اوپر کینٹین میں چائے کی دعوت دی۔ اوپر بیٹھ گئے۔انہوں نے بتایا کہ اس کینٹین میں وائس چانسلر سے لیکر عام طلبا تک سارے ایک لائن میں کھڑے اپنے باری کا انتظار کرتے ہیں۔ صالح سے پختونخوا کے سیاسی اور سماجی شخصیات پر بحث ہوئی۔اسکی سماجی شخصیات اور کاموں پر کافی تشویش کا اظہار کیا جو من وعن درست تھے، ان سے اجازت لی اور عبد المنیم نے یونیورسٹی کے گیٹ تک چھوڑا۔

صابرخان سے رابطہ کیااوراس کے ساتھ عارفہ ٹیکنالوجی پارک چلے گئے وہاں محسن طارق کا دوست زوریز نے گیٹ پر ہمارے آنے کی اطلاع دی تھی اندر داخل ہوئے، زوریز مصروف تھاتو ہم ایک نامعلو م ہال میں داخل ہونا چاہ رہے تھے جس پر وہاں استقبالیہ نے کہا کہ آپ ’’میکر ستان‘‘ جا رہے ہیں جس پر ہم نے ہاں کی تو انہوں نے کہا کہ وہ تو اوپر ہے۔ ہم سیدھا میکر ستان (ابھی تک ہمیں نہیں معلوم تھا کہ یہ کیا ہے) اندر داخل ہوئے ۔ اندر چھوٹے بچے اپنے کاموں میں مگن تھے ،ہمارے اندر آنے پر کسی نے توجہ ہی نہیں دی۔ ایک بچے سے اسکے پروجیکٹ کے بارے میں پوچھا جو ایک روبوٹ بنا رہا تھا۔پھر اس سنٹر کے بارے میں اس کے سرپرست علی مرتضٰی سے ملاقات کی۔جس نے کہا کہ ــ’’میکریستان ایک ایسا سنٹر تھا جو کسی بھی عمر کے لوگ اس میں آسکتے ہیں اور اپنی پروڈکٹ پر کام کر سکتے ہیں۔ اس میں ہم سب رضاکارانہ طور پر کام کرتے ہیں، اور سارے مینٹور بھی رضاکار ہیں۔‘‘ 
علی مرتضی خود عارفہ ٹیکنالوجی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے ٹیچنگ فیلو ہیں

علی مرتضٰی نے یونیورسٹی کی مختلف کلاس اورلیبارٹیاں دیکھائی۔ اس کے بعد ٹاور میں موجود پلان نائن کا دورہ کیا۔ ان سے ٹیکنالوجی پربحث ہوئی اور اس میں نئے مواقع کے بارے میں تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ اس سے رخصت ہوا، توزوریز نے رابطہ کیا اور اسکے ساتھ اسکے آفس ٹیرا ڈیٹا کا چکر لگایا، وہاں چائے پیں، تھوڑی گپ شپ لگی اور ان سے رخصت ہو کر ٹاور کے نیچے آ گئے ۔

وہاں ریسپشن میں موجود ربوٹ پر تھوڑا وقت گزار کر باہر نکلے۔

میاں صحیب کاکا خیل ( ناظم اعلٰی اسلامی جمیعت طلبا) نے ضیاالدین ( انچارج ادارہ مطبوعات طلبا) کا نمبر دیا تھا۔ اس سے رابطہ کیا کہ ہم مرکزی دفتر آرہے ہیں ۔ ہم دونوں سیدھا پہنچ گئے اور ضیا الدین سے ملے اس نے نئے دفتر کا دورہ کروایا ، مختلف شعبہ جات دیکھائے۔یہی دفتر کسی زمانے میں مولانا موددی کی رہائش گاہ تھی۔ ضیا نے کھانا کھلایااور ادارہ سے ایک کتاب تحفے میں دیا۔ ان سے رخصت ہوا۔

جلال قاضی اور شہاب فوڈ سٹریٹ میں انتظار کر رہے تھے ان کے پاس گیا۔اندرون شہر کا یہ حصہ دیکھا فوڈ سٹریٹ میں اپشاور ائی ایم سائنسس کے اساتذہ ملے، جو کوکو ڈین ( کوکو ڈین این سی اے کا ایک پروفیسر ارشد حسین نے بنایا ہے جس میں اس کے جمع کئے گئے نادر اشیا موجود ہیں، اس کے ساتھ اسکا کیفے ہے اس میں تاریخی اور نوادرات نمائش کے لئے رکھے گئے ہیں)۔ ائی ایم ایس کے اساتذہ سے پشاور اور لاہور کے موازنے پر خاطر خواہ بحث ہوئی۔

پھر واپس ڈیرہ ( ڈیرہ اعزاز ارباب خان نے بنایا ہے جس میں پختونخواکے رشتہ دارہسپتال یا کاروبار کے عرض لاہور کیلئے آتے رہتے ہیں )سے پہنچے ،

اگلے صبح کیلئے منصوبہ بندی کی، اور سو گئے۔

سات اکتوبر ۲۰۱۷: یاترہ کا پانچواں دن

ہفتے کا دن تھا ، منہاج القران یونیورسٹی اور لاہو ر یونیورسٹی دیکھی لیکن ہفتے کا دن اسلئے طلبا بہت کم تھے۔ پشاور کے کبیر خان سے رابطہ کیا اور اسکے کارخانے گیا ۔ انکا کارخانہ قالین کی صفائی کرواتی ہے اور عالمی منڈی کے سٹینڈرڈ کے مطابق مارکیٹ کر کےوہاں بیجھتے ہیں ۔

اسکے بعد جلال کے دوست ایاز اور اظہر سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ ’’ لاہور لاہورہے‘‘ کیلئے قذافی سٹیڈیم گئے۔ لاہور لاہور ہے ایک ڈبل ڈیکر بس سروس ہے جو لاہور کی تاریخی راستوں کی سیر کرواتا ہے۔ٹکٹ لی اور انتظار گاہ میں بیٹھ گئے اسی اثنا پشاور سے نیشنل ینگ لیڈر سمٹ کیلئے آنے والے شہاب اور دیگر پی وائی اے کی دیگر ممبر سے ملے ۔ وہ واپس گئے اور ہم بس میں سوار ہوئے۔بس تھوڑی دیر بعد روانہ ہوئی ۔ ٹور گائیڈ شگفتہ مختلف تاریخی مقامات کے بارے میں تفصیلات دیتی رہی ۔ بس نئے لاہور سے ہوتے ہوئے برٹش لاہور گئی، پھر پرانے شہر پہنچ گئے اور فوڈ سٹریٹ میں وقفہ کیا۔شگفتہ کے پاس لاہور کے بارے میں کافی معلومات تھی۔ انہوں نے اس بس کے بارے میں کافی معلومات دی۔

پھر لاہور کے مشہور انار کلی چلے گئے، وہاں رات کا کھانا کھا لیا، جہاں ٹکا ٹک سمیت لاہور کے مختلف کھانے کھائے، اور

وہاں سےواپس ہوئے اور سو گئے

سات اکتوبر ۲۰۱۷: یاترہ کا پانچواں دن

صبح اٹھ کر والڈ سٹی کے مشہور تاج محل سے ناشتہ کیا۔

اسکے بعد وہاں سے پیدل حویلی بارود خان دیکھااور ساتھ موسیقی آلات کی دکان دیکھی۔

بھر وہاں سے پیدل کشمیر مارکیٹ سے ہوکر سنہری مسجد کی سیر کی بھر مشہور مسجد وزیر خان (وزیر خان ایک حکیم تھے جو بعد میں لاہور کے گورنر مقرر ہوئے)۔ اس مسجد کی تعمیر اپنی مثال آپ تھی۔

پھر دہلی دروازے گئے وہاں والڈ سٹی اتارٹی کی ذیلی دفتر گئے

وہاں ہمیں ایک ٹور گائڈ دیا گیا جس نے لاہور ہیریٹیج ٹرائل اور شاہی حمام خان کی سیر کروائی۔شاہی حمام خانے کو بہت اچھی طریقے سے دوبارہ نمائش کے لئے بنائی گئی تھی۔

اسکے بعد گلی سرجن سنگھ دیکھی۔اکبر ی منڈی دیکھی۔وہاں سے سیدھا مینار پاکستان گئے ، مینار پاکستان لوگوں سے کچا کچ بھری ہوئی تھی۔

وہاں مہاراجہ رنجیت سنگہ کی سمادھی دیکھی

اسکے بعد شاہی مسجد گئے۔

وہاں سے لاہور قلعہ کا دورہ کیا۔وہاں سے لاہور کی ریلوے سٹیشن میں ٹکٹ بک کروائی۔

پھر پاک ٹی ہاوس میں ایک مشاعرہ شروع تھا۔اس سےلطف لیا۔

اور پھر انار کلی میں کھانا کھا لیا اور واپس ریلوے سٹیشن آکر ریل میں بیٹھ کر پشاور کیلئے روانہ ہوئے۔ نکلتے وقت لاہور والوں کا شکریہ ایسے ادا کیا۔

اس یاترے کا مقصد:

اس ٹور کے کئی مقاصد تھیں، نمبر ایک نئے ایڈیاز کو تلاش کرو کیونکہ پشاور میں سوچ تھوڑے پسماندہ ہوئے تھیں، میرے زہین میں تھا کہ دوبئی کی سیر کرو لیکن شائد وہ اتنا کار آمد نہ ہوتا کیونکہ وہاں کے کام آپ یہاں ریپلیکیٹ نہیں کر سکتے۔

دوسرا لاہوریوں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا، جس میں نفسیات سے لیکر عادات تک شامل ہیں۔

تیسرا مقصد شیر شاہ سوری کے ارمان کے بارے میں منصوبہ بندی کرنی تھی، اور اس نتیجہ پر پہنچہ ہوں کہ اس کا ارمان اس وقت تک پورا نہیں ہو سکتا جب تک ہم اپنی تعلیمی نظام کو بہتر نہ کرے ان جیسے تعلیمی اداریں بنا نہ لیں۔ ٹیکنالوجی میں ان کے لیول کے کام نہ کر سکے،

لاہور میں نے کئے جگہوں دیکھا کہ پشتون طلبا صرف ایک دوسرے کے ساتھ گپ شپوں میں مشغول تھیں جو اچھی شکون نہیں ہے، انکو چاہئے کہ دوسرے لوگوں کے ساتھ گل مل لیں ان سے کچھ سیک

کچھ دیگر مشاہدات:یں۔

لاہور کے سرخ اینٹوں کے بنے ہوئے عمارتیں بہت چیخ چیخ کے اپنے پختگی کا اظہار کرتے ہیں، انگریزوں نے واقع وہاں بہت زیادہ انفرا سٹرکچر بنایا ہے لیکن جیسے لاہوریوں نے اس کی حفاظت کی ہے وہ داد کے قابل ہیں۔

اسی طرح جس طرح انہوں نے اپنی تاریخ محفوظ کی ہیں وہ بھی انمول ہے۔

لاہور میں اگر آپ نے روڈ پر کسی کو مارا یا کسی نے اپکو مارا کوئی پرواہ نہیں کرتا، شائد اسی وجہ سے انکو’زندہ دلِانِ لاہور‘ کہتے ہیں۔

جب پشاور واپس آیا۔

کئی دوستوں نے مبارکبادیں دی اور تقریبا ایک ہفتے کے بعد بھی کوئی ملتا ہے تو یہی کہتا ہے۔ کیسا رہا آپکا لاہور کا ٹریپ؟