منجانب اللہ ہستیاں زمین پر لڑنے نہیں آتیں۔ بلکہ رب کی محبت پھیلانے آتی ہیں

امام مہدی سے متعلقہ ایک خاص نقطہ:
اقوام عالم کے لیے لمحہ فکریہ آپہنچا ہے کیونکہ یہ وہ دور ہے جس میں تمام مذاہب والوں کو صدیوں سے ایک ہستی کا انتظار ہے، ہندو کالکی اوتار کے انتظار میں ہیں ، مسلمان امام مہدی کے منتظر ہیں یہودی مسایا کی راہ دیکھ رہے ہیں عیسائی ، عیسی ٰعلیہ السلام کا انتظار کر رہے ہیں ، آنے والی وہ ہستی خود ساختہ تو نہیں ہوسکتی منجانب اللہ ہی آئے گی ۔دنیا میں اتنے بڑے بڑے لکھاری ہیں انکو اتنی سی بات سمجھ نہیں آتی کہ مسلمانوں کا امام مہدی بھی اللہ بھیجے گا یہودیوںکا مسایا بھی اللہ کی طرف سے آئے گا اور ہندوئوں کا اوتار بھی منجانب اللہ ہو گا ،کیا اللہ کی طرف سے آنے والی تینوں ہستیاں آپس میں لڑنے آئیں گی ؟ کیا اللہ کا دماغ خراب ہے کےجو تین ہستیاں اللہ کی طرف سے آئیں گی وہ نیچے آکر اپنا دین ثابت کرنے کے لیے آپس لڑیں ۔ اس طرح تو تین اکھاڑے کھل جائیں گے۔
بات یہ ہے کہ اللہ نے ایک ہی ذات کو بھیجنا ہے جو ہندوؤں کے لیے کالکی اوتار ہوگا، مسلمانوں کے لیے مہدی ہوگا، یہودیوں کے لیے مسایا ہوگا۔سب کا کہنا یہ ہے وہ ان کے دین کے لیے آ رہا ہے تو کیا وہ ہستی جب مسلمانوں کے ساتھ ہوگی تونماز پڑھے گی، ہندوؤں میں جائے گی تو پوجا پاٹ کرے گی اور یہودیوں کے ساتھ دیوار گریہ پر کھڑے ہو کر روئے گی؟ نہیں ایسا نہیں ہے ، وہ ذات ایسی بات لے کر آئے گی جو تینوں مذاہب کے لیے قابل قبول ہو گی ، وہ ہستی کسی ایک مذہب کی بات نہیں کرے گا ، وہ خدا کی بات کرے گا اور خدا کو سارے مانتے ہیں ، اور خدا کی وہ بات اس کی محبت ہو گی۔منجانب اللہ ہستیاں زمین پر لڑنے نہیں آتیں۔ بلکہ رب کی محبت پھیلانے آتی ہیں ۔

Show your support

Clapping shows how much you appreciated Shaziagohar’s story.