سوچنا،اپنے عقيدوں اور یقینوں سے نکل کر سوچنا بھی “جرم” ہے
آسماں در آسماں اسرار کی پرتیں الٹ کر جھانکنا بھی “جرم” ہے
کیوں بھی کہنا “جرم” ہے
کیسے بھی کہنا “جرم” ہے
سانس لینے کی آزادی میسّر ہے
مگر
زندہ رہنے کیلئے کچھ اور بھی درکار ہے
اور اس “کچھ اور بھی” کا تذکرہ بھی
“جرم” ہے
اے ہُنر مندانِ آئين و سياست،
اے خداوندانِ ايوان و عقائد
لبیک یا رسول اللہ

سوچنا،اپنے عقيدوں اور یقینوں سے نکل کر سوچنا بھی “جرم” ہے
آسماں در آسماں اسرار کی پرتیں الٹ کر جھانکنا بھی “جرم” ہے
کیوں بھی کہنا “جرم” ہے
کیسے بھی کہنا “جرم” ہے
سانس لینے کی آزادی میسّر ہے
مگر
زندہ رہنے کیلئے کچھ اور بھی درکار ہے
اور اس “کچھ اور بھی” کا تذکرہ بھی
“جرم” ہے
اے ہُنر مندانِ آئين و سياست،
اے خداوندانِ ايوان و عقائد
لبیک یا رسول اللہ

Show your support

Clapping shows how much you appreciated Peer Abu Hamid’s story.