جانے والا چلاگیا کہ اسے تو جانا تھا
زندگی بے وفا کب تک ساتھ نبھانا تھا
چندلمحوں میں اک ساعت کا جینا گذرا
دنیااک پل بھرکی آخرت اک زمانہ تھا
اسکے نصیب میں تو یاد آنا لکھا تھا
اےدوست مسرورہوں سوال پر ترے
کتنا مشکور ہوں اس خیال پر ترے
لانا ہی ہے تو لانا تم اپنی محبتیں
بھجینا مجھے ہر روز اپنی چاہتیں
وطن کی ہوائیں اورماں کی دعائیں
کیا بھروسہ اسکے پیار کا
پڑھ نہ سکے لکھا دیوارکا
بہانہ موت کاکرکے چل دیا
رنگ یہ بےوفا کےانتظار کا
قبرپرپھول انکی کھلتےہیں
کرتے رہے گلہ جو بہار کا
Immortality
اج جینیاں گلاں کرنیاں نیں کر لے
کل تیری گل مک جاۓگی
کی شاہ تے کی فقیر
آخر سب دی ساہ رک جاۓ گی
دھرتی اتے ات مچان والیو
Past
ھو جائیں گی خاموش اک دن
تمام آوازیں مرے. ماضی کی
نئ نسل اور ماضی کا بوجھ
ساتھ چل نہیں سکتے تا دیر
پرانا جب اچھا لگنے لگے تو