اےدوست مسرورہوں سوال پر ترے

کتنا مشکور ہوں اس خیال پر ترے

لانا ہی ہے تو لانا تم اپنی محبتیں

بھجینا مجھے ہر روز اپنی چاہتیں

وطن کی ہوائیں اورماں کی دعائیں

دوستوں کاپیاراور زندگی پہ اختیار

روشن ہوجاۓ دم یار سےمحفل اغیار

ابکے آنا لانا کچھ. سورج کی کرنیں

سردیوں کی دھوپ اور گرم چاندنی

آخر کو سب سے بڑھ کر تم خود آنا

اپنی تمام گرم جوشی اور وجود لانا

ہر خوشی تمہاری یاد سے وابسطہ

ہر راستا ہے تمہارے گھر کا راستا

اب یاد جوانی سے بغلگیر ہوں میں

محفل بہار اجڑنےپر دلگیر ہوں میں

ابکے آنا تو بہار مرے شہر کی لانا

گل کی مہک خبر مرے گھر کی لانا

Show your support

Clapping shows how much you appreciated Mohammad Waseem’s story.