کیا بھروسہ اسکے پیار کا

پڑھ نہ سکے لکھا دیوارکا

بہانہ موت کاکرکے چل دیا

رنگ یہ بےوفا کےانتظار کا

قبرپرپھول انکی کھلتےہیں

کرتے رہے گلہ جو بہار کا

اک اک ادااسکی جفا تھی

قصور تھا تومرے اعتبار کا

ایک محبت نے کمر توڑ دی

ورنہ ارادہ تھا اپنا چار کا

Show your support

Clapping shows how much you appreciated Mohammad Waseem’s story.